اسلام: نسوانیت کا محافظ

اسلام: نسوانیت کا محافظ
’’نسوانیت‘‘ کے معنی ہیں عورت پن، عورت کی طبعی، نفسیاتی و فطری صفات اور کیفیات جو عام طور پر ایک عورت میں پائی جاتی ہیں۔ اسلام نسوانیت کی حفاظت کیسے کرتا ہے؟ اسلام عورت کی عزت، عظمت اور حقوق کا مکمل تحفظ کرتا ہے۔ اس عنوان کو سمجھنے کے لیے قدیم و جدید جاہلیت کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کے معتدل اور متوازن نظام پر غور کریں گے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو مختلف صلاحیتوں، فطری میلانات اور ذمہ داریوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ مرد اور عورت دونوں انسانی حیثیت سے برابر قدر و منزلت رکھتے ہیں، لیکن ان کی جسمانی ساخت، فطری صلاحیتوں اور بعض ذمہ داریوں میں فرق ہے۔ یہ فرق کسی کی برتری یا کم تری کی علامت نہیں بلکہ انسانی زندگی کے متوازن نظام کا حصہ ہے۔
موجودہ دور میں عورت کی کامیابی اور عزت کو اکثر اس بات سے جوڑا جانے لگا ہے کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان میں اسی انداز سے کام کرے، اپنی تمام فطری ترجیحات کو پیچھے چھوڑ دے اور مسلسل مصروفیت کو کامیابی کی علامت سمجھے۔ نتیجتاً بہت سی خواتین گھر، اولاد، خاندان اور پیشہ ورانہ یا سماجی ذمہ داریوں کے درمیان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
جدید دور کے نئے کلچر
سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ کئی نئے طرزِ فکر اور کلچر سامنے آئے ہیں۔ ان میں Villain Era اور Hustle Culture خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ولن ایرا (Villain Era): خود اعتمادی یا سختی؟
ولن ایرا کا اصل مفہوم برا یا بے رحم بننا نہیں، بلکہ اپنی ذات کی قدر کرنا، اپنی حدود متعین کرنا اور ہر معاملے میں دوسروں کی منظوری کے محتاج نہ رہنا ہے۔ اس تصور کے تحت انسان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اپنی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، اپنی حدود واضح کریں، ضرورت کے وقت ’’نہیں‘‘ کہنا سیکھیں، اپنی ضروریات اور خواہشات کا مناسب اظہار کریں، اور ہر وقت دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنی ذات کو نظر انداز نہ کریں۔
یہ اصول اپنی جگہ مفید ہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خود اعتمادی کا مطلب سخت مزاجی، بے نیازی اور جذبات سے لاتعلقی سمجھ لیا جائے۔
ہَسل کلچر (Hustle Culture): مسلسل مصروفیت کا جنون
ایسی طرزِ زندگی یا سوچ ہے جس میں رات دن مسلسل کام، مصروفیت اور کامیابی کے حصول کو زندگی کا بنیادی مقصد سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سوچ کے تحت انسان آرام، صحت، خاندان اور ذاتی زندگی کو پیچھے چھوڑ کر مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیات میں آرام اور چھٹی کو وقت کا ضیاع سمجھنا، مسلسل کام میں مصروف رہنا، نیند اور صحت کو نظر انداز کرنا، خاندان اور دوستوں کو مناسب وقت نہ دینا، اپنی مصروفیت کو سوشل میڈیا پر فخر کے طور پر پیش کرنا، اور ہر وقت زیادہ حاصل کرنے کی دوڑ میں رہنا شامل ہیں۔
ایسی زندگی کا نتیجہ اکثر ذہنی دباؤ، مسلسل تھکن، بے چینی اور جسمانی صحت کے مسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ انسان کام تو بہت کرتا ہے، لیکن زندگی کے جذباتی، خاندانی اور روحانی پہلو کمزور ہونے لگتے ہیں۔
جب تھکن کو کامیابی سمجھ لیا جائے
جدید کلچرز کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات تھکن کو کامیابی، مسلسل دباؤ کو طاقت اور جذبات سے بے نیازی کو خود مختاری کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ عورت کو کہا جاتا ہے کہ وہ مضبوط ہو، مگر اپنے جذبات ظاہر نہ کرے؛ خود مختار ہو، مگر اپنی کمزوری یا ضرورت کا اظہار نہ کرے؛ خود کفیل ہو، مگر کسی سہارے کی محتاج نہ ہو۔
یوں عورت کی حقیقی طاقت کو اس کی فطرت، محبت، شفقت، حیا اور جذباتی صلاحیتوں میں تلاش کرنے کے بجائے بعض اوقات مردانہ اوصاف کی نقالی میں تلاش کیا جانے لگتا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو عزت دینے کے لیے اسے مرد بننے کی ضرورت ہے؟ یا اسلام نے عورت کی عزت اس کی اپنی فطرت اور مقام کے مطابق کی ہے؟
اسلام کا متوازن راستہ: مساوات نہیں، عدل
قدیم اور جدید جاہلیت کی مختلف انتہاؤں کے درمیان اسلام ایک معتدل راستہ پیش کرتا ہے۔ اسلام نے مرد اور عورت کی قدر و منزلت کا معیار جنس نہیں بلکہ تقویٰ اور عمل قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی ۚ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ
ترجمہ: ’’بیشک میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔‘‘ (سورۃ آلِ عمران: 195)
اسلام کا تصور یہ نہیں کہ مرد اور عورت ہر اعتبار سے ایک جیسے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ ہر ایک کے حقوق، ذمہ داریوں اور فطری صلاحیتوں کے مطابق عدل کیا جائے۔
عورت کا گھر: محدودیت نہیں، ذمہ داری کا عظیم میدان
اللہ تعالیٰ نے عورت کو محبت، شفقت، تربیت، صبر اور نگہداشت جیسی بے مثال صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ گھر کا نظم و ضبط، اولاد کی پرورش، تربیت اور خاندان کی جذباتی بنیاد مضبوط کرنا معمولی کام نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
المرأة راعية على بيت زوجها وولده وهي مسؤولة عنهم
یعنی عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ماں بن کر نسلِ انسانی کی پرورش اور ایک نئی نسل کی تربیت کرنا کوئی وقتی یا معمولی ذمہ داری نہیں۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور مسلسل محنت کا عمل ہے۔
عورت پر دوہرا بوجھ کیوں؟
عورت اگر گھر اور اولاد کی بنیادی ذمہ داریوں کے ساتھ وہ تمام معاشی، سیاسی اور سماجی ذمہ داریاں بھی اپنے کندھوں پر اٹھا لے جو اس کی فطری اور بنیادی ذمہ داریوں کے علاوہ ہیں، تو اس پر بوجھ بہت بڑھ سکتا ہے۔ گھر، اولاد، تعلیم، تربیت اور باہر کی مسلسل مصروفیات کو بیک وقت نبھانے کی کوشش ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے عورت کی کامیابی کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کتنی زیادہ ذمہ داریاں اپنے اوپر لاد سکتی ہے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت، فطرت اور حالات کے مطابق متوازن زندگی کیسے گزار سکتی ہے۔
اسلام نے عورت کو بوجھ نہیں، عزت دی
اسلام سے پہلے بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی سمجھا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی پرورش کو عزت اور اجر کا ذریعہ قرار دیا۔ ماں کے مقام کو بلند کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے حسنِ سلوک میں ماں کو خصوصی حق عطا فرمایا۔ بیٹی اور بہن کے ساتھ حسنِ سلوک کو بھی اجر و ثواب کا ذریعہ بتایا گیا اور نیک بیوی کو دنیا کی بہترین نعمتوں میں شمار کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔‘‘ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو خاندان کے اندر عزت، محبت اور حقوق کا مقام عطا کیا۔
عورت پر کوئی معاشی ذمہ داری نہیں، مگر مالی حق ضرور ہے
اسلام نے عورت پر خاندان کا معاشی بوجھ لازم نہیں کیا، لیکن اسے مالی حقوق سے محروم بھی نہیں رکھا۔ اسلام نے عورت کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کیا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عورت ایک باعزت اور مستقل حیثیت رکھنے والی شخصیت ہے۔ اسی طرح شوہر کو بیوی اور بچوں پر خرچ کرنے کو اجر و ثواب کا ذریعہ بتایا گیا۔
ماں کا مقام: قرآن و سنت کی روشنی میں
قرآنِ کریم نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے ماں کی تکالیف اور قربانیوں کو خصوصی طور پر یاد دلایا ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 14 میں ماں کے حمل اور دودھ پلانے کی مشقت کا ذکر کیا گیا ہے:
وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ ۚ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ وَہۡنًا عَلٰی وَہۡنٍ وَّ فِصٰلُہٗ فِیۡ عَامَیۡنِ اَنِ اشۡکُرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیۡکَ ؕ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ
ترجمہ: ’’اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا، اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو برس میں ہے، کہ تو میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا؛ (تجھے) میری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ ’’تمہاری ماں‘‘ فرمایا، پھر والد کا ذکر فرمایا۔ یہ عورت کے اس عظیم مقام کی علامت ہے جو اسے اسلام نے ماں کی حیثیت سے عطا کیا۔
رسول اللہ ﷺ کا گھر میں عملی نمونہ
رسول اللہ ﷺ نے گھریلو کاموں کو کبھی حقیر نہیں سمجھا۔ احادیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کی مدد فرماتے، اپنے کپڑوں کی مرمت کر لیتے، آٹا گوندھتے اور بکری کا دودھ بھی دوہ لیتے تھے۔ یہ طرزِ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ گھر کے کام کسی ایک جنس کی تحقیر نہیں بلکہ خاندان کی باہمی ذمہ داری اور تعاون کا حصہ ہیں۔
آپ ﷺ اپنی ازواج اور اہلِ خانہ کے ساتھ نہایت احترام اور محبت سے پیش آتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ آپ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے اور انہیں اپنی جگہ بٹھاتے۔ آپ کی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہؓ آتیں تو آپ اپنی چادر مبارک بچھا دیتے۔ یہی اسلام کا خاندانی نظام ہے: ذمہ داری کے ساتھ عزت اور اختیار کے ساتھ محبت۔
اسلام نے عورت کو گھر تک محدود نہیں کیا بلکہ اس نے عورت کو علم، شعور اور معاشرتی کردار سے مزین کیا۔ عہدِ رسالت میں خواتین علمِ حدیث، فقہ اور دین کے دیگر علوم سے واقف تھیں۔ وہ سوال کرتی تھیں، اپنی رائے پیش کرتی تھیں اور ضرورت کے مواقع پر معاشرتی خدمات انجام دیتی تھیں۔ جنگ کے مواقع پر بعض خواتین زخمیوں کو پانی پہنچانے اور طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بھی موجود رہیں۔
حضرت اُم عمارہؓ: بہادری کی مثال
غزوۂ اُحد میں حضرت نسیبہ بنت کعبؓ، جنہیں اُم عمارہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ جب حالات سخت ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس دوران زخمی بھی ہوئیں۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے عورت کو کمزور یا بے اثر وجود نہیں سمجھا، بلکہ ضرورت کے وقت اس کی ہمت اور صلاحیت کو بھی تسلیم کیا۔
حضرت اسماء بنت یزیدؓ: عورت کی فکری بیداری
حضرت اسماء بنت یزید انصاریہؓ کو ’’خطیبۃ النساء‘‘ یعنی خواتین کی ترجمان کہا جاتا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عورتوں کی طرف سے ایک اہم سوال پیش کیا کہ مردوں کو جہاد، جمعہ اور نمازِ جماعت جیسے اعمال میں شرکت کے مواقع ملتے ہیں، جبکہ خواتین اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے ان میں شریک نہیں ہو پاتیں، تو کیا انہیں بھی اجر و ثواب حاصل ہوگا؟
آپ ﷺ نے ان کے اس خوبصورت اور پرمغز سوال کو سن کر صحابہ کرام کی طرف رخ کیا اور تعریف فرمائی: ’’کیا تم نے کسی عورت سے سنا ہے کہ اس نے دین کے معاملے میں اتنا اچھا سوال کیا ہو؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورت اگر شوہر کی فرمانبرداری کرے، گھر میں رہ کر اپنے فرائض ادا کرے اور اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کرے تو اسے بھی مردوں کے جہاد اور تمام عبادات کے برابر ثواب ملتا ہے۔ (مسند احمد) یہ سوال اس بات کی روشن مثال ہے کہ عہدِ نبوی کی خواتین اپنے دینی مقام اور اجر کے بارے میں باشعور تھیں اور دلیل کے ساتھ سوال کرنے کا حوصلہ رکھتی تھیں۔
حضرت اُم سلمہؓ: ایک عورت کا دانشمندانہ مشورہ
صلحِ حدیبیہ کے موقع پر حضرت اُم سلمہؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک اہم اور بروقت مشورہ دیا۔ جب صحابہ کرامؓ شدید غم کی کیفیت میں فوری طور پر آپ ﷺ کے حکم پر عمل نہ کر سکے تو حضرت اُم سلمہؓ نے مشورہ دیا کہ آپ ﷺ خود باہر تشریف لے جائیں، قربانی کریں اور حلق کروائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مشورے پر عمل کیا۔ جب صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی فوراً قربانیاں کیں اور حلق کروایا۔ یہ واقعہ عورت کی فہم، بصیرت اور مشاورت کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔
عورت کی نسوانیت اس کی کمزوری نہیں
آج بعض اوقات عورت کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ عزت اور وقار حاصل کرنے کے لیے اسے اپنی نسوانی خصوصیات سے دور ہونا ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کی محبت، شفقت، حیا، صبر، جذباتی گہرائی اور پرورش کی صلاحیتیں کمزوریاں نہیں بلکہ اس کی فطری قوتیں ہیں۔ عورت کو بااختیار بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اپنی فطرت سے جنگ کرنا پڑے۔ حقیقی خود اعتمادی یہ ہے کہ عورت اپنی فطرت کو سمجھے، اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور اپنے حقوق و ذمہ داریوں میں توازن قائم کرے۔
پردہ اور محرم: پابندی نہیں، تحفظ
اسلام نے عورت کے لیے پردے اور محرم کے ساتھ سفر جیسے بعض احکام مقرر کیے ہیں۔ ان احکام کو محض پابندی سمجھنا درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ہے اور وہ ہماری فطرت، ضروریات، کمزوریوں اور مصلحتوں کو ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ جس طرح معاشرہ بعض حفاظتی اصول اس لیے بناتا ہے کہ انسان کو نقصان سے بچایا جا سکے، اسی طرح شریعت کے بعض احکام بھی انسانی عزت، تحفظ اور معاشرتی بھلائی کے لیے ہیں۔ اس لیے ہر پابندی کو آزادی کے خلاف سمجھنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس حکم کے پیچھے کیا حکمت اور مصلحت ہے۔
عورت کو مرد بننے کی ضرورت نہیں
عورت کی عزت کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مرد کے ہر کردار اور ہر میدان کو اسی انداز میں اختیار کرے۔ مرد اور عورت دونوں اللہ کی مخلوق ہیں، دونوں عزت کے مستحق ہیں اور دونوں اپنے اعمال کے مطابق اللہ کے ہاں اجر پائیں گے۔ لیکن ان کی فطرت اور ذمہ داریوں میں فرق کو مٹانا عدل نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ دونوں کو ان کے حقوق دیے جائیں، ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کا احترام کیا جائے اور خاندان کو مقابلے کے بجائے تعاون کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔
اسلام کا عطا کردہ کامیابی کا معیار
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کامیابی کے ان پیمانوں پر دوبارہ غور کریں جن میں ہر وقت مصروف رہنا، تھکن برداشت کرنا اور مسلسل خود کو ثابت کرنا کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ عورت کی حقیقی کامیابی اس میں نہیں کہ وہ خود کو ہر ذمہ داری کے بوجھ تلے دبا دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی فطرت، صلاحیت، حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ایک متوازن، باوقار اور پُرسکون زندگی گزارے۔
اسلام عورت کو کمزور نہیں بناتا، بلکہ اسے اس کی فطرت کے مطابق مقام عطا کرتا ہے۔ نہ عورت کو ماضی کی جاہلیت کی طرح بے وقعت سمجھنا درست ہے، نہ جدید دور کے کسی ایسے تصور کو مکمل آزادی سمجھنا درست ہے جس میں عورت کو اپنی فطرت سے دور ہونا پڑے۔ اسلام کا راستہ عدل، توازن، عزت، ذمہ داری اور رحمت کا راستہ ہے۔ عورت کو مرد بننے کی ضرورت نہیں۔
عطیہ صدیقہ (Atiya Siddiqua)
عطیہ صدیقہ جماعت اسلامی ہند کی ڈائریکٹر، ہادیہ ای-میگزین کی چیف ایڈیٹر، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) کی رکن ہیں۔
