وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
نظام تمدن میں عورت اور مرد کے کلیدی کردار ہیں کسی ایک کے بغیر بھی دوسرے کے وجود کا سوال نہیں۔ دونوں کا وجود ایک دوسرے کی تکمیل ہے۔ یہ وجود ان کے کردار سے وابستہ ہے۔ اگر عورت اپنے کردار کی ادائیگی میں افراط و تفریط کا شکار ہوگی تو تمدن کی شکل بگڑ جائے گی۔ مرد اپنے کردار کی ادائیگی میں غفلت برتے گا، نظام تمدن ڈھ جائے گا۔ بات صرف کردار کی ادائیگی کی ہی نہیں بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ یہ رول فطرت کی بخشی ہوئی شناخت کے ساتھ اور اس کے متعینہ رول کے مطابق ہو۔ مرد اگر اپنی شناخت کو متاثر کرے اور عورت کی جگہ درونِ خانہ اپنے لیے عافیت تلاش کرے اور قدرت نے جن ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اس کو قوت و طاقت عطا فرمائی ہے ان سے منہ موڑ لے تو تمدن کا رنگ و روپ بگڑ جائے گا۔ اسی طرح عورت اپنی نسوانیت سے پیچھا چھڑانے کے چکر میں مردانہ کردار ادا کرنے میں اپنی عزت و وقار کی تلاش کرے تب بھی انسانی زندگی درہم برہم ہو جائے گی۔
عورت کی اصل قدر و قیمت نسوانیت ہے
عورت اپنی شناخت کے ساتھ اپنے دائرہ کار میں تاریخ میں اپنا کردار ادا کر چکی ہے۔ رسولﷺ کی سرپرستی و راہ نمائی میں اس کو بحیثیت عورت معاشرہ میں پذیرائی ملی۔ اس کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے والا ماحول ملا۔ اس کے جذبوں کو سراہا گیا۔ اس کی جذبات کی آبیاری کی گئی، اس کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اس ماحول میں مرد و عورت کے لیے مناسب فاصلہ کے ساتھ عورت کی سماجی حصہ داری کو تسلیم کیا گیا۔ شناخت کے ساتھ قدر و قیمت کو تسلیم کرنے سے انسانیت کا شجر بہار سے لہلہا اٹھا۔ عورت نے نسوانی وقار کے ساتھ اپنے میدانِ عمل میں ذمہ داریاں نبھائیں تو ایک جانب اس کی شخصیت کی تعمیر کمال کے درجہ پر پہنچی، تو دوسری جانب ان خواتین کی گود سے اعلیٰ انسانی اوصاف و خصائل سے مزین انسانی سرمایہ حاصل ہوا۔ اس عہد کو تاریخ میں خیر القرون کے نام سے جانا جاتا ہے۔
مرد و خواتین کے باہمی تعاون و اشتراک میں انسانی معاشرہ کی حیات ہے۔ ایسا معاشرہ جس میں مرد و عورت کے درمیان کوئی کشمکش نہیں، نہ مردوں کو خدشہ کہ عورتیں ان سے ہم سری کی دعویٰ دار بنیں گی، نہ عورتوں کو اپنے حقوق کے تلف ہونے کا خدشہ۔ یہ کمال تھا اس مدینہ ماڈل کا۔ مزید یہ کہ اس سماج میں عورت کا رول صرف ماں تک اور گھر کی چاردیواری تک محدود نہیں رہا۔ ان عورتوں نے معاشرتی معاملات میں اپنی حصہ داری نبھائی اور خوب نبھائی۔ معاشی جدوجہد میں بھی مقدور بھر متحرک رہیں۔ علمی و فکری ارتقا کی یہ کیفیت کہ قانون سازی کے عمل میں قرآن کی آیت سے استدلال کر کے وقت کے خلیفہ کو مہر کے سلسلہ میں قانون سازی کے اقدام سے باز رکھتی ہے۔ اور عمرؓ جیسی شخصیت اعتراف کر رہی ہے کہ عمرؓ کے مقابلہ میں علم اور سمجھ بوجھ میں عورت آگے بڑھ گئی۔ یہ شاندار اثرات صرف دورِ نبوی تک محدود نہیں رہے بلکہ اسلام کے شجرِ طیبہ کے سایہ میں مدت دراز تک سلسلہ برقرار رہا۔ علمی وراثت میں شاندار نظیر قائم ہوئی۔ ہزار ہا محدثات اشاعتِ علم میں حصہ داری ادا کرتی رہیں۔ فاطمہ الفہری کا نام آج بھی القراوین یونیورسٹی کے حوالہ سے دو عہد کے درمیان ایک برج کی علامت بنا ہوا ہے۔ اس کا فیضِ عام خود آج اپنے وجود کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ کارنامہ اسلام کے عادلانہ اور متوازن نظام کا تھا جس نے عورت کو اس کی نسوانیت کی شناخت کے ساتھ اس کی فطرت سے ہم آہنگ میدانوں میں شرکت کے بھرپور مواقع عطا کیے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس عہد میں خواتین نے اپنی نسوانیت کو اپنی نزاکت، کمزوری، اظہارِ حسن کا ذریعہ نہیں بنایا؛ نسوانیت کے بے جا تصنع سے یہ معاشرہ پاک تھا۔ نسائی کردار ہے لیکن عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے نہایت حساس ہے۔ حیا کے زیور سے آراستہ ہے لیکن ساتھ ہی ہمت و جرأت کا پیکر بھی ہے۔ بچوں کے لیے محبت و شفقت میں ریشم کی طرح نرم لیکن ناگہانی حالات میں مقابلہ کے حوصلہ میں کوئی کمی نہیں۔
نشیمن آندھیوں کی زد میں کیوں
انسانی فطرت کا خالق اللہ ہے۔ اس کی رہنمائی کا ذریعہ وحیِ الٰہی ہے۔ انسان کی فطرت اور اس کائنات کا نظام ہم آہنگ ہے۔ فطرت کے قوانین اٹل ہیں، وہ بدلے نہیں جا سکتے۔ اسلام کے راستہ سے انحراف سے انسانی فطرت بدل نہیں جاتی لیکن انحراف کے نتیجہ میں انسانی فطرت میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بگاڑ عقائد، تربیت، رویے، ماحول و ثقافت کے اثرات سے آتا ہے۔ موجودہ دور میں ہم نظامِ خاندان کا انتشار، خاندان کی بگڑی ہوئی شکلیں، شادی کے مختلف رجحانات، عورت میں نسوانیت کے حوالہ سے بگاڑ، فطرت کی ڈالی گئی ذمہ داریوں سے اعراض کا رویہ، مادریت پر حملہ، نظامِ خاندان پر ضرب، عورت کا مردانہ کرداروں کی ادائیگی کا رجحان دیکھتے ہیں۔ یہ سب اس فطرت کے بگاڑ کے نتائج ہیں۔
دیکھو جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
تاریخ بہت ہی امانت کے ساتھ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و اثرات کو اپنے سینہ میں محفوظ رکھتی ہے۔ مغرب کی صورتحال کا بے لاگ جائزہ لینے والے صاحبِ ضمیر قلم کار پکار رہے ہیں کہ روم کی عظیم الشان تہذیب کے مٹنے میں دیگر وجوہات کے ساتھ بڑی اہم وجہ خاندان کی تباہی، عورت کا فطری کردار سے انحراف اور بگاڑ رہا ہے۔ ماضی قریب میں اشتراکیت کے علمبرداروں نے نظامِ خاندان کی تباہی میں جو رول ادا کیا وہ زیادہ دور کی بات نہیں۔ خاندانی نظام پر تیشہ چلانے کے بعد کچھ ہی عرصہ میں جو نسل ان کے ہاں وجود میں آئی اس کو دیکھ کر خود ان ہی کے ہوش اڑ گئے۔ ماں کی آغوش سے محروم نوجوانوں کی اخلاقی حالت دیکھ کر ان سے چھٹکارہ پانے کے لیے سائبیریا میں کیمپ قائم کرنے کے مشورہ دیے جانے لگے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے بھی خاندانی نظام کی تباہی میں کوئی کسر نہیں رکھی۔ جب اس کے اثرات نمودار ہوئے تو نوجوانوں کو امریکہ کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا جانے لگا۔
عورت دو انتہاؤں کے درمیان
آج عورت دو انتہاؤں کے درمیان ہے۔ ایک جانب مسلم معاشرہ کے روایتی نظام کے پیدا کردہ مسائل ہیں جس نے عورت کی شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ حقوق ہیں لیکن حقوق سے استفادہ کا ماحول نہیں۔ گھریلو ماحول، نظامِ معاشرت، مسلم معاشرہ کا مزاج اور خود عورت ظلم کو برداشت کر کے زندگی کاٹنے کی روایت میں گرفتار ہے۔ نام نہاد روشن خیال و ترقی پسند خاندانوں نے اس کے تعلیمی حق کو تسلیم کیا تو اس پر کمانے کا اور گھر کی ذمہ داریوں کا دہرا بوجھ لاد دیا گیا۔ دوسری انتہا عورت کو مساوات اور آزادی کا جھانسہ ہے جہاں وہ آزادی کے حسین خواب سجائے باہر نکل آئی۔ باہر کے مطالبات دوسرے تھے۔ مردوں سے محاذ آرائی، ان سے حریفانہ کشمکش میں عورت نے مرد کی طرح کام کرنے، مرد کی طرح لباس اور رنگ ڈھنگ اختیار کرتے کرتے اپنی نسوانیت کو داؤ پر لگا دیا۔ اب نسوانیت کمزوری بنا دی گئی۔ شادی کو مرد کی غلامی سے تعبیر کیا جانے لگا۔ مادریت بوجھ بن گئی۔ گھر قید خانہ قرار دیا جانے لگا۔ عورت اور مرد خود خاندان کی ضرورت سے بے نیاز بن گئے۔ فطری جذبات کو کمزوری کا نام دے کر عورت کو فطرت کا باغی بنا دیا گیا۔ نتائج ظاہر ہوئے: ٹوٹ پھوٹ کا شکار خاندان، تعلیم و تربیت سے محروم بچے۔ لیکن عورت کے حصہ میں کیا آیا؟ کام کا دہرا بوجھ، ذہنی اور جذباتی تھکان۔ امومت (ماں بننا)، مادریت اور رضاعت جیسے کام جو اس کے اصل کام تھے، وہ مرد تو نہیں کر سکا۔ لہٰذا اپنی فطری ذمہ داریاں، باہر کے کام اور معاش کی ذمہ داری کا دگنا بوجھ عورت کے کندھوں پر آ گیا۔ یہ دو انتہائیں نہ تو عورت کے حق میں ہیں نہ ہی انسانی معاشرہ کے لیے فائدہ مند۔
ففِرّوا الی اللہ — اللہ کی طرف رجوع ہی اصل علاج ہے
تیسرا انتہائی متوازن اور اعتدال کا راستہ جو اسلام دکھاتا ہے، وہی عورت کے لیے مناسب ترین اور اس کی نسوانیت، اس کے جذبات اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ جہاں عورت کو عزت و احترام اس کی عورت ہونے کی وجہ سے ملتا ہے، اس کے ہر روپ میں اس کی قدر و قیمت بڑھتی جاتی ہے، جہاں ایسے اسباب فراہم ہوتے ہیں کہ اس کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ یہاں عورت کو فیصلہ سازی میں حصہ داری کے لیے مہم چلانے یا نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی، عزت و احترام پانے کے لیے مرد بننے اور مردوں کے سے کام کر کے خود کو منوانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں مرد اس کا حریف نہیں ہے، اس کا محافظ اور اس کا نگہبان ہے۔ اپنی شناخت کے ساتھ ایک پرامن اور صحت مند معاشرہ کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرنا ہی فطرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔ مرد و عورت اپنے اپنے فطری دائرہ میں باوقار طریقہ کے ساتھ تمدن کی تعمیر میں اپنی اپنی حصہ داری نبھاتے ہیں تو تمدنی ترقی کے مظہر شاندار تعلیمی و فلاحی ادارے وجود میں آتے ہیں، لیکن جب ذمہ داریوں کی ادائیگی کا پیمانہ بگڑتا ہے اور معاشرہ اپنی فطری ڈگر سے ہٹ جاتا ہے تو جو ادارے وجود میں آتے ہیں وہ مزید زوال کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اولڈ ایج ہومس، چائلڈ کیئر سنٹرس اور بیوٹی پارلرس کی بڑھتی تعداد ہمارے اس معاشرہ پر سوالیہ نشان ہیں۔
شائستہ رفعت (Shaista Rafat)
شائستہ رفعت جماعت اسلامی ہند کی قومی سیکریٹری اور TWEET (دی وومن ایجوکیشن اینڈ ایمپاورمنٹ) کی جنرل سیکریٹری ہیں۔ آپ ایک مصنفہ اور خطیبہ ہیں۔
